Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیا

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیا

میرے بھی دل میں بڑا ارماں ستم گر رہ گیا

کیا فقط کوچہ میں تیرے میرا بستر رہ گیا

بلکہ مجھ سے چھوٹ کر دل ہی کہیں پر رہ گیا

میکشوں کے دور میں بیٹھے تھے ہم بھی با نصیب

اب تو خالی ہاتھ میں ساقی کے ساغر رہ گیا

میرے کس ارماں نے میرے قتل سے روکا تجھے

جو کمر سے تیرے یوں خنجر نکل کر رہ گیا

در تک اس کے میں پہنچ جاؤں گا یہ کہتا ہوا

تیرے کوچے میں مرا بھولے سے بستر رہ گیا

موت آئی ہے مجھے لینے کو یہ کہہ دے کوئی

رہنے والا مر گیا اجڑا ہوا گھر رہ گیا

وائے ناکامی کہ اڑنے بھی نہ پایا تھا ابھی

باندھتے ہی نامہ بازوئے کبوتر رہ گیا

دل کی مایوسی نہ پوچھو جب وہ پہلو سے اٹھے

کر ہی کیا سکتا تھا تڑپا اور تڑپ کر رہ گیا

سب کو لوح قبر میرا بھی یوں ہی دے گی نشاں

آئنے سے جس طرح نام سکندر رہ گیا

عشق اس کے گیسوؤں کا کیا ہوا عالمؔ مجھے

سارے عالم کا جو سودا تھا مرے سر رہ گیا