Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نخل امید میں ثمر آیا

منشی شیو پرشاد وہبی

نخل امید میں ثمر آیا

حسن ان کا مراد پر آیا

قصد کعبہ تھا دیر میں پہونچا

کس طرف دھیان تھا کدھر آیا

رویا میں یاد یار میں جب جب

سیل اشکوں کا تا کمر آیا

واسطہ گو دیا پیمبر کا

نہ مرا پھر کے نامہ بر آیا

کر دیا کشتہ چرخ نے لیکن

نہ بغل میں وہ سیم بر آیا

خوب دیکھا مگر سوا تیرے

نہ کوئی دوسرا نظر آیا

جان دی ہم نے درد فرقت سے

نہ خبر کو وہ بے خبر آیا

صبح کی ہم نے تارے گن گن کر

پر وہ مہ رو نہ رات بھر آیا

کٹ گئی باتوں ہی میں وصل کی رات

مدعا دل کا کچھ نہ بر آیا

جب دیا اس نے بھر کے غیر کو جام

خون آنکھوں میں میری بھر آیا

ہو گئی شرم مانع وصلت

رحم بھی ان کو مجھ پہ گر آیا

نظر چرخ سے گرا خورشید

مہوش اپنا جو بام پر آیا

اپنے دل میں یہ سوچ لو وہبیؔ

جان جائے گی دل اگر آیا