Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ادب سے شکوۂ غم ہو رہا ہے

منیر بھوپالی

ادب سے شکوۂ غم ہو رہا ہے

زباں خاموش ہے دل رو رہا ہے

جگر بیتاب ہے دل رو رہا ہے

تمناؤں کا ماتم ہو رہا ہے

زمانہ لاکھ دے چھینٹے پہ چھینٹے

میں کیا جاگوں مقدر سو رہا ہے

سمجھتا ہے وہ جنت کی حقیقت

تری محفل میں دم بھر جو رہا ہے

جبیں اپنی کسی کا آستاں ہے

مقدر اب مقدر ہو رہا ہے

دل نا فہم یہ آنسو نہیں ہیں

بڑے نایاب موتی کھو رہا ہے

محبت ریز فطرت بن رہی ہے

قیامت خیز عالم ہو رہا ہے

نیا انداز ہے عذر ستم کا

مجھی سے میرا شکوہ ہو رہا ہے

شب غم اور سکون قلب مضطر

مجھے کچھ اور ہی شک ہو رہا ہے

یہاں تک راز دل ہم نے چھپایا

زمانہ میں فسانہ ہو رہا ہے

الٰہی شان ستاری کا صدقہ

شمار معصیت کیوں ہو رہا ہے

انہی آنکھوں میں جنت بس رہی ہے

انہی آنکھوں میں محشر سو رہا ہے

دبے پاؤں گزر جائے قیامت

کوئی برسوں کا جاگا سو رہا ہے

یہ درد دل منیرؔ ان کا کرم ہے

مقام شکر ہے تو رو رہا ہے