Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئی

مختار صدیقی

نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئی

کب التفات تھا کہ جو خوئے ستم گئی

پھیرا بہار کا تو برس دو برس میں ہے

یہ چال ہے خزاں کی جو رک رک کے تھم گئی

شاید کوئی اسیر ابھی تک قفس میں ہے

پھر موج گل چمن سے جو با چشم نم گئی

قبضہ میں جوش گل نہ خزاں دسترس میں ہے

راحت بھی کب ملی ہے اگر وجہ غم گئی

ہاں طرح آشیاں بھی انہیں خار و خس میں ہے

بجلی جہاں پہ خاص بہ رنگ کرم گئی

ہاں شائبہ گریز کا بھی پیش و پس میں ہے

وہ بے رخی کہ ناز کا تھی جو بھرم گئی

اب کائنات اور خداؤں کے بس میں ہے

اب رہبری میں قدرت دیر و حرم گئی

جادو غزل کا جذب تمنا کے رس میں ہے

یعنی وہ دل کی بات دلوں میں جو دم گئی