Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نکلی جو روح جسم سے پھر ہے بدن میں کیا

شاہ اکبر داناپوری

نکلی جو روح جسم سے پھر ہے بدن میں کیا

جب شمع بجھ گئی تو رہا انجمن میں کیا

وہ شعر کیا کہ دل میں جو نشتر چبھا نہ دے

ہو جس میں بو نہ درد کی ہے اس سخن میں کیا

ٹیڑھا جواب دیتے ہو تم سیدھی بات کا

یاد اک ادا یہی ہے تمہیں بانکپن میں کیا

حل کر دیا تبسم لب نے یہ مسئلہ

اب عذر آپ کو ہے ثبوت دہن میں کیا

آ ہم دکھائیں داغ جگر کی تجھے بہار

اے عندلیب سیر ہے تیرے چمن میں کیا

کیوں چومتے ہیں اس کو نکیرین بار بار

نام اس کا ہے لکھا ہوا میرے کفن میں کیا

سو عہد اس نے توڑے مگر پھر یقین ہے

ہے معجزہ یہی لب پیماں شکن میں کیا

اے اہل عقل اس کا مزا یوں نہ آئے گا

جو نافہ ہے وہ کاکل مشکیں کی ہے گرہ

صد رنگ کیا ہے اور ہے رنگ سمن میں کیا

تم مال دار ہو نہ ہنر ور نہ با کمال

اکبرؔ تمہاری قدر ہو ملک دکن میں کیا