Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وصل میں خوش کبھی دل ہجر میں جلتے دیکھا

عنایت اللہ روشن بدایونی

وصل میں خوش کبھی دل ہجر میں جلتے دیکھا

رنگ نیرنگ جہاں سے یہ بدلتے دیکھا

اف رے اے درد جدائی ترے صدمے شب ہجر

دل کی آنکھوں سے لہو ہو کے نکلتے دیکھا

داغ پر داغ اٹھائے جو لکھا تھا وہ ہوا

سچ ہے قسمت کے نوشتہ کو نہ ٹلتے دیکھا

کچھ تو ہے لطف محبت میں جو ہوتے ہیں فنا

شمع پروانہ کو ہر بزم میں جلتے دیکھا

دیکھ کر چلئے زمانہ کا نشیب اور فراز

کھا کے ٹھوکر جو گرا پھر نہ سنبھلتے دیکھا

کون ہوتا ہے برے وقت میں اے یار شریک

خاک پر چھوڑ کے تن روح کو چلتے دیکھا

داغ تازہ دئے نیرنگ فلک نے اس کو

باغ عالم میں جسے پھولتے پھلتے دیکھا

وقت کی قدر نہ کی لہو و لعب میں جس نے

عمر بھر دست تأسف اسے ملتے دیکھا

ہو مرے سامنے کیا خاک مقابل کو فروغ

کھوٹا سکہ کہیں بازار میں چلتے دیکھا

فرقت طالب و مطلوب غضب ہے روشنؔ

جان کو جسم سے رک رک کے نکلتے دیکھا