Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وصل کی آرزو کئے نہ بنی

Dagh Dehlvi (1831–1905)

وصل کی آرزو کئے نہ بنی

نہ بنی جستجو کئے نہ بنی

شوق نے ہم کلام کر ہی دیا

ان سے بے گفتگو کئے نہ بنی

جب رکا خون بن گئی دم پر

چاک دل کو رفو کئے نہ بنی

ذلت عشق ہے وہاں عزت

شکوہ آبرو کئے نہ بنی

پاک ہونا ہے رند کو لازم

مے کشی بے وضو کئے نہ بنی

قتل ٹھہرا جو شیوۂ معشوق

ہمیں دل کو لہو کئے نہ بنی

اس کی تصویر سے بھی تھا یہ خوف

داغؔ کو گفتگو کئے نہ بنی