Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وقت کی چیز

علی منظور حیدرآبادی

سب جسے انتہا کہیں تو اسے ابتدا سمجھ

ہو نہ اسی سمجھ پہ خوش یوں ہی بڑھائے جا سمجھ

ذوق سفر گھٹا نہ دے لوگ کہیں جو نا سمجھ

حاصل مدعا کو بھی پرتو مدعا سمجھ

اور بلندیوں پہ جا راز عروج کا سمجھ

دل میں ہے درد قوم اگر قوم کی جلد لے خبر

قوم سے ہیں جو بے خبر قوم کی ان کو دے خبر

سوچ کہ اپنی قوم سے کون ہے آج بے خبر

کام کا آدمی ملے یا نہ ملے کسے خبر

کیا نہیں تو خود آدمی خود کو ہی کام کا سمجھ

تیرے حدود میں کہیں آئیں نظر نہ پستیاں

لائق اعتنا نہ ہوں غیروں کی چیرہ دستیاں

درخور التفات ہوں کیوں یہ ذلیل ہستیاں

جس کی خودی پہ چھین لیں قوم کی خود پرستیاں

ایسے خودی نواز کو قوم کا رہنما سمجھ

قوت زر سے جو بشر آئی بلا کو ٹال دے

اس کی کرامتوں میں جس اور بھی ذوالجلال دے

اس سے اگر ہے بد ظنی دل میں تو اب نکال دے

قوم کی مفلسی کو جو معرض شک میں ڈال دے

ایسے بھی مال دار کو مکرمت آشنا سمجھ

تو نہ رکھ اتنی حب زر دل میں مگر یہ رکھ خیال

وقت کی چیز بن گئی آج نمود جاہ و مال

تیرے نمود پر کرے فخر ہر ایک با کمال

عزت قوم کا ہے جز عزت نفس کا سوال

اپنے بھی ارتقا کو تو قوم کا ارتقا سمجھ