Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

پشیمانی

تصدق حسین خالد

موت کا راگ نفیری پہ بجاتی آٹھی

لو جھلستی ہوئی لو

آٹھی

بڑھی

ریت پہ جیسے دھواں اٹھتا ہو

سرسراہٹ سی درختوں میں ہوئی

پتے مرجھا گئے

گرنے لگے

وہ ان کے کھڑکنے کی صدا میرے خدا

لو کے ہم راہ بڑھے

موت کے ناچ کا نکلا تھا جلوس

چونک کر جاگ اٹھے صحن چمن میں طائر

آشیانوں سے جدائی انہیں منظور نہ تھی

سہم کر اٹھے اڑے اڑ کے وہیں آں گرے

ان کی اس آخری فریاد کی غم ناک صدا میرے خدا

اک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جھکائے ہوئے سر

ہاتھ آنکھوں پہ رکھے

بیٹھی ہے غمگیں اداس مجبور

پہلو میں افسردہ خوشی کو لے

سانس رکنے لگا

خوں جمنے لگا

بے کلی ڈھونڈھتی پھرتی ہے پناہ

رینگتا رینگتا خوف آیا سسکتا ہوا سانپ

بے کلی کانپ اٹھی

خوف جھپٹ کر اٹھا بے کلی نزع میں تھی

مجھ کو بچا میرے خدا

تیرگی کانپی

فضا لرزی

کھلی کرنوں کی راہ

روحیں جو وسعت آفاق میں آوارہ سی تھیں

ڈھونڈھتی پھرتی تھیں منزل اپنی

پھڑپھڑائے ہوئے پر اپنے اٹھیں

اور ہواؤں میں بڑھیں

سامنے جنت گم گشتہ نظر آتی تھی