Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں

امداد امام اثر

ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیں

اجازت جب نہیں در کی پس دیوار بیٹھے ہیں

یہ مطلب ہے کہ محفل میں منائے اور من جائیں

وہ میرے چھیڑنے کو غیر سے بیزار بیٹھے ہیں

خریدار آ رہے ہیں ہر طرف سے نقد جاں لے کر

وہ یوسف بن کے بکنے کو سر بازار بیٹھے ہیں

اچانک لے نہ لوں بوسہ یہ کھٹکا ان کے دل میں ہے

مرے پہلو میں بیٹھے ہیں مگر ہشیار بیٹھے ہیں

تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے

جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں

قیامت ہے ستم مردے پہ بھی ان کو گوارا ہے

مرا لاشہ اٹھانے کے لئے اغیار بیٹھے ہیں

لب بام آ کے دکھلا وہ تماشا طور کا تم بھی

بڑے موقعے سے در پر طالب دیدار بیٹھے ہیں

اثرؔ کیوں کر نہ جانوں اس کے در کو قبلۂ عالم

اسی جانب کئی رخ کافر و دیں دار بیٹھے ہیں