Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا

شبلی نعمانی

پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا

رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا

شب فرقت میں دل غمزدہ بھی پاس نہ تھا

وہ بھی کیا رات تھی کیا عالم تنہائی تھا

میں تھا یا دیدۂ خوننابہ فشانی شب ہجر

ان کو واں مشغلۂ انجمن آرائی تھا

پارہ ہائے دل خونیں کی طلب تھی پیہم

شب جو آنکھوں میں مری ذوق خود آرائی تھا

رحم تو ایک طرف پایہ شناسی دیکھو

قیس کو کہتے ہیں مجنون تھا صحرائی تھا

آنکھیں قاتل سہی پر زندہ جو کرنا ہوتا

لب پہ اے جان تو اعجاز مسیحائی تھا

خون رو رو دیے بس دو ہی قدم میں چھالے

یاں وہی حوصلۂ بادیہ پیمائی تھا

دشمن جاں تھے ادھر ہجر میں درد و غم و رنج

اور ادھر ایک اکیلا ترا شیدائی تھا

انگلیاں اٹھتی تھیں مژگاں کی اسی رخ پیہم

جس طرف بزم میں وہ کافر ترسائی تھا

کون اس راہ سے گزرا ہے کہ ہر نقش قدم

چشم عاشق کی طرح اس کا تماشائی تھا

خوب وقت آئے نکیرین جزا دے گا خدا

لحد تیرہ میں بھی کیا عالم تنہائی تھا

ہم نے بھی حضرت شبلیؔ کی زیارت کی تھی

یوں تو ظاہر میں مقدس تھا پہ شیدائی تھا