Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سے

سید ہمایوں میرزا حقیر

پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سے

صبح کی ہے آج بھی رو رو کے میں نے شام سے

سابقہ ہے روز فردا اس بت خود کام سے

قبر میں سونے دے اے دل دو گھڑی آرام سے

رو رہے ہیں اب تو دشمن بھی جنازے پر کھڑے

آپ بھی گردن اٹھا کر دیکھ لیتے بام سے

آ گئی ہے یاد مجھ کو گردش چشم نگار

ساقیا نظارۂ دور مئے گلفام سے

کوئی مر جائے کہ فرقت میں رہے زندہ بگور

ان کو اپنے کام سے مطلب ہے اپنے نام سے

چھٹ کے پیشانی کی افشاں دیکھیں کس کس پر گرے

بجلیاں ناحق گراتے ہیں وہ بیٹھے بام سے

بعد مردن ہو گلی اس کی کہ دشت خار خار

واں بھی رہتے چین سے اور یاں بھی ہیں آرام سے

زہر ہو لیکن وہ مجھ کو اپنے ہاتھوں سے تو دے

یوں تو مطلب جام سے ہے اور نہ دور جام سے

عاشقی اچھی سہی انجام عشق اچھا نہیں

اے حقیرؔ اب درگزر کر اس خیال خام سے