Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا

علی منظور حیدرآبادی

پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا

ایک مست ناز کو دل بے مدعا دیا

اب کیا گلہ کروں عدم التفات کا

میری نگاہ یاس نے سب کچھ جتا دیا

بڑھتے ہوئے شعور میں گم ہو رہا ہوں میں

احساس حسن آپ نے اتنا بڑھا دیا

دیکھی نہ جب تجلیٔ تکرار آشنا

بے رنگیوں کا رنگ خودی نے جما دیا

ہے شاد بے دلی پہ تہی دست آرزو

اچھا کیا نشان تمنا مٹا دیا

مایوس جلوہ ہائے طرب ہوں خبر نہیں

دل خود ہی بجھ گیا کہ کسی نے بجھا دیا

کیا لطف اضطراب دکھاؤں کہ آپ نے

احساس درد درد سے پہلے مٹا دیا

انجام دید و عید اب اے ہم نشیں نہ پوچھ

وہ مجھ کو یاد ہے مجھے جس نے بھلا دیا

معلوم تھا تجھے کہ وہ درد آشنا نہیں

منظورؔ دل کا درد انہیں بھی سنا دیا