Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اردو شاعری کا مطالعہ

وحید الدین سلیم

وہ نظریں جو کبھی اک بے وفا سے لڑکے نازاں تھیں

اب ان کو اپنی بدبختی کا قائل دیکھتے جاؤ

وہ آنکھیں جو کبھی پروانۂ رخسار جاناں تھیں

اب ان کو گریۂ حسرت میں شاغل دیکھتے جاؤ

وہ الفت جس کے استحکام پر دنیا کو حیرت تھی

اب اس کو مثل رنگ خام زائل دیکھتے جاؤ

وہ بدبخت محبت جس کی فطرت ہی محبت تھی

اب اس کو صبر کر لینے کے قابل دیکھتے جاؤ

انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑئیے

ہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے

حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے

ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے

نزع میں پھرتی ہوئی آنکھوں کو

ترا افسوں نظر یاد آیا

ستم ہے لاش پر اس بے وفا کا یہ کہنا

کہ آنے کا بھی کسی کے نہ انتظار کیا

کسی نے نزع کی یوں گتھیوں کو سلجھایا

سرہانے بیٹھ کے ہر سانس کا شمار کیا

اب تک ہیں یاد روح کو آثار نزع کے

ماتھے پر اک شکن تھی کلیجے میں درد تھا

آکے دیکھے نزع میں کھنچتے جو میرے ہاتھ پاؤں

اف ری شوخی ایک انگڑائی سی لے کر رہ گیا

مری میت پہ کس دعوے سے وہ کہتے ہوئے آئے

ہٹا دینا ذرا ان رونے والوں کو ہٹا دینا

یہ کہہ کر قبر پر پھر یاد اپنی کر گئے تازہ

ارے اے مرنے والے اب مجھے دل سے بھلا دینا

ہجوم عام ہے بالیں پہ سب غم خوار بیٹھے ہیں

وہ خود جب سے قریب بستر بیمار بیٹھے ہیں

ہر اک ہچکی میں کیوں کر کھل رہے ہیں موت کے عقدے

فقط وہ دیکھنے یہ حالت بیمار بیٹھے ہیں

اسی کی شام غم پہ صدقے ہو مری صبح حیات

جس کے ماتم میں تری زلفیں پریشاں ہو گئیں

نہ پوچھو دم کے رکنے کا سبب تم نزع میں مجھ سے

کیا ہو زندگی بھر ضبط جس نے رائگاں کیوں ہو

دم آخر مریض غم کی بالیں تک چلے آؤ

کسی کی عمر بھر کی جانفشانی رائگاں کیوں ہو

کھڑے بالیں پہ وہ ہنستے ہیں اپنا دم نکلتا ہے

برے وقت اے فلک کوئی کسی کا کم نکلتا ہے

شب غم نزع کی بھی سختیوں کا کر لیں اندازہ

نکل اے آہ یوں سینے سے جیسے دم نکلتا ہے

وداع دل ہجوم آرزو میں کیا کہوں تجھ سے

بھرے گھر سے جنازہ جیسے اے ہم دم نکلتا ہے

وہ وقت آیا کہ اب سینے میں ہر دم ہوک اٹھتی ہے

نفس کہتے ہیں جس کو وہ بہت ہی کم نکلتا ہے

بنا ہے مرکز تاثیر غم بیمار کا چہرہ

یہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے

ہماری بیکسی کی موت تھی عبرت کا افسانہ

جسے دیکھو شریک مجلس ماتم نکلتا ہے

رگیں کھنچنے سے جذب عشق کا اندازہ کرتے ہیں

وہ کیا جانیں ابھی کن مشکلوں سے دم نکلتا ہے

دیکھوں تو جذب حسرت دیدار وقت نزع

اے روح یوں نکل کہ تماشا کہیں جسے

کیا کہوں کیا نہ کہوں ہستی موہوم کا راز

نزع میں پوچھتے ہیں کیا ہے حقیقت تیری

نزع میں پر تو رخ ڈال کہ روشن ہو نگاہ

اب دکھائی نہیں دیتی مجھے صورت تیری

جب کفن لائے ہیں بیمار محبت کے لیے

صبح اس وقت ہوئی ہے شب فرقت تیری

دم اکھڑتا ہے کسی کا اور وہ بیٹھے ہیں خموش

دیکھ لے یہ منظر عبرت کسے اب ہوش ہے

آئیے نزع کا ہنگام ہے اب

مشورہ آپ سے کچھ کرنا ہے

بالیں پہ میرے کہہ کے کسی نے یہ کھولے بال

دیکھیں تو امتیاز اسے شام و سحر میں ہے؟

گھبرائیے نہ ختم ہے بیمار شام عمر

بس تھوڑی دیر اور طلوع سحر میں ہے

کہتی ہے روح نزع میں رستہ دکھا چکے

جاتے ہیں ہم خود آپ وہاں وہ تو آ چکے

یہ وصیت آخری ہے اسے سن لیں سب احباب

کوئی دل کا ذکر کرتا نہ سر مزار آئے

رگیں کھنچنے لگیں اب نزع کا ہنگام آتا ہے

وہ جائیں ورنہ ان کے سر پہ سب الزام آتا ہے

یہ سناٹا یہ تاریکی یہ گورستاں یہ ویرانی

تمہیں اے سونے والو کس طرح آرام آتا ہے

یہ کیا تھا یوں تو وہ دیکھا کیے دم توڑنا میرا

مگر انگڑائی لی اک روح نکلی جب مرے دل سے

کہتے ہیں وقت نزع وہ بیمار ہجر سے

ختم اک نفس میں شرح تمنا کرے کوئی

میت بیمار ہجراں دیکھنے سے فائدہ

نقش کچھ دھندلے سے ہیں بگڑی ہوئی تصویر سے

دیکھئے تو چہرۂ بیمار سرکا کر کفن

آج ہیں دشمن بھی شاکی آپ کی تاخیر کے

نزع میں کس کو بھلا تاب شکیبائی ہے

جب وہ آئے ہیں تو کچھ جان میں جان آئی ہے

تھی صبح اور ستارے کچھ جھلملا رہے تھے

بیمار شام فرقت دنیا سے جا رہے تھے

دم توڑتا نہیں کوئی بیمار اس طرح

شاید شریک موت کسی کی ادا بھی ہے

ہستی کے رخ کو پھیر دیا روزگار نے

کروٹ جولی مریض شب انتظار نے

انگڑائی لے کے کسی نے چٹکائیں انگلیاں

دو ہچکیوں میں ختم جو بیمار ہو گئے

یہ کہہ کر سرہانے مرے آ کے بیٹھے

ہٹو چارہ سازو کہ اب وقت کم ہے

اگر کہیں وہ دم واپسیں چلے آتے

ہم ایک سانس میں تفصیل آرزو کرتے

کہتی ہے روح آئی ہیں جتنی کہ ہچکیاں

اتنی ہی میں نے ٹھوکریں کھائی ہیں راہ کی

ہاں ساقی مہر و کوئی جام آج پلا پھر

میں جس کا ہوں مشتاق وہ مے شیشے سے لا پھر

دے آئینہ طبع مصفّا کو جلا پھر

ہونٹوں سے چھلکتے ہوئے ساغر کو ملا پھر

لکھتا ہوں دغا ساقی کوثر کے خلف کی

جھوٹی بھی اگر می ہو تو رندان نجف کی

اس ہال کے اندر حوض جو تھا فوارے اس میں اچھلتے گئے

دھاریں جو ہوئیں پانی کی رواں دھاروں سے راگ نکلتے گئے

پھر گھنگروؤں کی چھم چھم کی صدا اس ہال کے فرش سے آنے لگی

یہ ناچ کی دھن کچھ سازوں کو بجنے کے لیے اکسانے لگی

تارے سے ہیں چمکتے ہوئے یاسمین کے پھول

حیراں ہیں جن کو دیکھ کے سارے چمن کے پھول

ہیں لمبی لمبی ڈالیاں چھائی زمین پر

چھتری سی ہے جنھوں نے بچھائی زمین پر

بعض اودے ہیں مگر بعض ہیں پیلے شہتوت

کیا ہی قدرت نے بنائے یہ رسیلے شہتوت

لذت بادۂ کوثر ہے تو شہتوت میں ہے

شہد جنت کامزہ گر ہے تو شہتوت میں ہے

پیپل کے ہر درخت پہ طوطوں کے ہیں پرے

چونچیں ہیں لال لال بدن ہیں ہرے ہرے

چھوٹے پھلوں کو پھینکتے ہیں وہ کتر کتر

مینہ سا برس رہا ہے زمیں پر پٹر پٹر

یاں ہوا آزاد ہے موجیں یہاں آزاد ہیں

سب پرند آزاد ہیں سب مچھلیاں آزاد ہیں

حسن لیتا ہے یہاں لہریں پڑا چاروں طرف

ہے خوشی چاروں طرف اور ہے ضیا چاروں طرف

میں ہوں شمع محفل زندگی میرا نام عہد شباب ہے

مرا سانس باد بہار ہے مری چال موجِ شراب ہے

مری عمر کی ہیں جو ساعتیں ہوئی عشرتوں میں تمام ہیں

یہی قہقہے یہی چہچہے مری زندگی کے پیام ہیں

ہے مرے دل میں بھی یہ تمنا یوں ہی رہوں بے نام و نشاں

اہل جہاں سے دور رہوں اور دور ہوں مجھ سے اہل جہاں

کشمکش جذبات سے میرا دامن عصمت چاک نہ ہو

پاک رہوں اور پاک ہی جاؤں گھر میں مرے گوخاک نہ ہو

اے شیکسپیئر اے دل انساں کے مصور

فطرت کے مظاہر ترے دل پر ہوئے ظاہر

وسعت میں تری روح سمندر سے بڑی ہے

رفعت میں نظر تیری ستاروں سے لڑی ہے

ملک کا سرمایۂ بقا ہے انہیں سے

قوم کا سامان ارتقا ہے انہیں سے

گرثمر شاخ آرزو ہیں تو یہ ہیں

جو ہر شمشیر آبرو ہیں تو یہ ہیں

اے آریو آؤ قدم رکھو ان حسن بھرے گلزاروں میں

جنت کے مزے لوٹوگے سدا اس پاک زمین کی بہاروں میں

تم گنگ و جمن کے کناروں پر شہر اپنے نئے آباد کرو

گاگاکے بھجن کر کر کے ہون ہو جاؤ مگن دل شاد کرو

وہ راگ جسے ہنگام سحر گانی ہے ہوا گلزاروں میں

وہ راگ جسے چشموں کی زباں کرتی ہے ادا کہساروں میں

وہ راگ جو ہے موجوں کو رواں اس وحشت خیز سمندر میں

وہ راگ شراب تند بھری ہے جس کے بھنور کے ساغر میں

وہ راگ جسے گاگاکے سداآتے ہیں پرندے مستی میں

وہ راگ چھپی ہے جس کی صدا ہر رینگنے والی ہستی میں

اس راگ نے اپنی الاپوں سے لبریز کیے ہیں کان مرے

پھر جاگ اٹھے ہیں مرے جذبے پھر زندہ ہوئے ارمان مرے

خون اس کی نگاہوں سے ہر لحظہ ٹپکتا ہے

ہے ہاتھ میں جو چاقو بجلی سا چمکتا ہے

ہے کاٹتا اک دم وہ سرسبز نہالوں کو

رحم ان پہ نہ کیوں آئے سب دیکھنے والوں کو

جب نیم کی شاخیں ٹھنڈی ہوا کھا کھا کے تھرکنے لگتی ہیں

پھر زریں کرنیں سورج کی پتوں پہ چمکنے لگتی ہیں

پتوں کی رگوں میں نیم کا رس ہے دوڑتا پوری سرعت سے

یہ ریشہ دوانی دیکھ کے میں تصویر بنا ہوں حیرت سے

مرے دل میں اٹھتے ہیں ولولے کہ ہوں کاش بادِبہار میں

کبھی غنچے پر ہو مرا گزر کبھی پھول سے ہوں دوچار میں

کبھی گلشنوں کو بتاؤں میں وہ جو ضابطے ہیں سنگار کے

کبھی بلبلوں کو سکھاؤں میں وہ جو زمزمے ہیں بہار کے

ہے طبع رواں دب کر جمگھٹ میں کچل جاتی

برگوں کے تلے آ کر ہے گھاس بھی جل جاتی

جو ذہن کہ خلوت میں کر سکتے تھے ایجادیں

جلوت میں وہ جب پہنچے سب گر گئیں بنیادیں

لطف ہوا سے بو پہ بو پھیل رہی فضا میں ہے

معجزہ نوبہار کا جلوہ گر اس ہوا میں ہے

عکس مشام پر مگر جب نہ پڑے شمیم کا

کیجیے کس سے تذکرہ تازگی نسیم کا

سرہانے اک مریض مرے ہے شمع زرد جل رہی

برنگ مورنا تواں ہے نبض اس کی چل رہی

یکایک اس کے چہرے پر جھلک سی آکے رہ گئی

جو زندگی کی موج تھی وہ تلملا کے رہ گئی

وہ گلوں کی روشنی سے نظروں کا دنگ ہونا

وہ برنگ باغِ رضواں چمنوں کا رنگ ہونا

وہ شمیم عطر گل کا سر رہ گزر مہکنا

وہ نسیم مشک چین کالب غنچہ سے لپکنا

کس قدر بلندی پر تھا کبھی مکان میرا

شاخ سبز طوبیٰ پر تھا اک آشیاں میرا

حوریں کس مسرت سے گود میں بٹھاتی تھیں

زمزمے مرے سن کر خود بھی سرہلاتی تھیں

یہ زمین پر چمنستان وہ بلندی پہ ستارے

مرے دل سے کوئی پوچھے تو یہ جلوے ہیں تمہارے

کبھی خوشبو کی اگر لہر سی پاتا ہوں فضا میں

تو سمجھتا ہوں کہ تم بال سکھاتے ہو ہوا میں

صبح یوں ہی آئےگی شام یوں ہی آئےگی

گردش دور زماں رنگ یوں ہی لائےگی

زمزمے مرغ چمن یوں ہی سدا گائیں گے

پھول یوں ہی باغ میں رنگ نیا لائیں گے

ہے حادثوں میں پنہاں حکمت کا ایک اشارا

جرا حیاں ہیں گویا قدرت کی آشکارا

نشتر سے حادثوں کے چیرے نہ گروہ پھوڑے

فاسد مواد ان کو زندہ کبھی نہ چھوڑے

سمندر اے دل خالق کے اضطراب سمندر

چھپے تو رکھتا ہے کیا انقلاب سینے کے اندر

غرور عقل عشر کے ڈبو چکا ہے تو لاشے

اب اور دیکھیے کیا کیا دکھائے گا تو تماشے

جولاں گہ اظہار لیاقت اسے کہیے

گہوارۂ تعلیم فصاحت اسے کہیے

ذہنوں کی ترقی کا جو میداں ہے تو یہ ہے

آداب تمدن کا دبستاں ہے تو یہ ہے

ایک ہنگامہ تھا برپا مرے ارمانوں میں

برق مضطر کی تڑپ تھی مری شریانوں میں

صرصر رنج کے جھوکے جو گذر جاتے تھے

دفتر قلب کے اوراق بکھر جاتے تھے

کیا برق و باد کا طوفاں تھا، تھی جس سے فضا میں پڑی ہل چل

اب تو ہی نشانی ہے باقی طوفاں کی اے تنہا بادل

دل تیری گرج سے دہلتے تھے لرزہ تھا پڑا جانداروں میں

گویا تھا سمندر ٹوٹ پڑا پانی کی لپکتی دھاروں میں

اس بہشت زندگی سے نوجواں غافل نہ ہوں

عیش کے مشتاق ہیں تو طیش پر مایل نہ ہوں

لذت اخلاق شیریں ان کو چکھنی چاہیے

من و سلوا کی حفاظت ان کو رکھنی چاہیے

لہجۂ بلبل کو فریاد زغن ہونے نہ دیں

نغمۂ وحدت کو شور ماومن ہونے نہ دیں

میل کی کھیتی پہ پانی سیل کا پھرنے نہ دیں

مہر کے خرمن پہ بجلی قہر کی گرنے نہ دیں

جس کو دیکھا تھا کبھی گلشن وہ گلخن ہو نہ جائے

جس کو سمجھے تھے کبھی مسکن وہ مدفن ہو نہ جائے

صر صر دوزخ کو اس فردوس میں چلنے نہ دیں

نخلِ طوبیٰ کی جگہ زقوم کو پھلنے نہ دیں

نوح کی کشتی پہ طوفاں کا اثر ہونے نہ دیں

جنت آدم میں شیطاں کا گزر ہونے نہ دیں

تیوروں پر لطف کے غصے کے بل آنے نہ دیں

عہد میں الفت کے کلفت کا خلل آنے نہ دیں