Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

احمد حسین مائل

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں

وصل کا لطف مجھے وصل سے پہلے ہی ملا

جب کہا یار نے گھبرا کے یہ کیا کرتے ہیں

اس قدر تھا مجھے الفت میں بھروسا ان پر

کی جفا بھی تو یہ سمجھا کہ وفا کرتے ہیں

ہے یہی عرض خدا سے کہ فلاں بت مل جائے

وہی اچھے جو نمازوں میں دعا کرتے ہیں

لب کسی کے جو ہلے کان ادھر دھیان ادھر

دل لگا کر وہ مرا ذکر سنا کرتے ہیں

صبح کو دیکھ کے آئینہ میں بوسے کا نشاں

مسکراتے ہوئے ہونٹوں میں گلا کرتے ہیں

کیسے کیسے مجھے بے ساختہ ملتے ہیں خطاب

غصہ آتا ہے تو کیا کیا وہ کہا کرتے ہیں

کیا ہوا مجھ کو رقیبوں نے اگر دی تعظیم

تیری محفل میں تو فتنے ہی اٹھا کرتے ہیں

کان باتوں کی طرف آنکھ ہے کاموں کی طرف

ہو کے انجان مرا ذکر سنا کرتے ہیں

چین پیشانی پہ ہے موج تبسم لب میں

ایسے ہنس مکھ ہیں کہ غصے میں ہنسا کرتے ہیں

بس تو چلتا نہیں کچھ کہہ کے انہیں کیوں ہوں ذلیل

ہم تو اپنا ہی لہو آپ پیا کرتے ہیں

اس اشارے کے فدا ایسے تجاہل کے نثار

مار کر آنکھ وہ منہ پھیر لیا کرتے ہیں

جلسے ہی جلسے ہیں جب سے وہ ہوئے خود مختار

کوئی اتنا نہیں کہتا کہ یہ کیا کرتے ہیں

عاشقانہ ہے عقیدہ بھی ہمارا مائلؔ

لے کے ہم نام بتاں ذکر خدا کرتے ہیں