Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اس بت کا انتظار کبھی ہے کبھی نہیں

رنج حیدرآبادی

اس بت کا انتظار کبھی ہے کبھی نہیں

دل اپنا بے قرار کبھی ہے کبھی نہیں

اقرار بھی ہے وعدے سے انکار بھی اسے

ظالم کا اعتبار کبھی ہے کبھی نہیں

نفرت ہے ویسے گر تجھے انکار ہی سہی

یہ کیا کہ خواست گار کبھی ہے کبھی نہیں

اترائیں دل میں آپ نہ آئینہ دیکھ کر

یہ موسم بہار کبھی ہے کبھی نہیں

رغبت بھی ہے شراب سے نفرت بھی ہے مجھے

یہ چیز ناگوار کبھی ہے کبھی نہیں

یہ حال ہو گیا ہے کہ اس کے فراق میں

آنکھ اپنی اشک بار کبھی ہے کبھی نہیں

اک روز میرے پاس ہے اک روز ان کے پاس

دل کا بھی اعتبار کبھی ہے کبھی نہیں

اے رنجؔ کیا بتاؤں علاج اس کا کیا کروں

دل کو مرے قرار کبھی ہے کبھی نہیں