Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہا

عبد الغفور نساخ

پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہا

وہ دل نہیں رہا وہ زمانہ نہیں رہا

کیا ذکر مہر اس کی نظر میں ہے دل وہ خوار

شایان جور و ظلم دل آرا نہیں رہا

جھگڑا مٹا دیا بت کافر نے دین کا

اب کچھ خلاف مومن و ترسا نہیں رہا

عشاق و بوالہوس میں نہیں کرتے وہ تمیز

واں امتیاز نیک و بد اصلا نہیں رہا

کیوں بہر سیر آنے لگے گل رخان دہر

پیری میں دل سزائے تماشا نہیں رہا

کہہ دو کہ قبر نعش بھی کی اس کی پائمال

نام و نشان عاشق رسوا نہیں رہا

اب تک یہاں ہے عجز و نیاز و وفا کی دھوم

واں لطف و التفات و مدارا نہیں رہا

کشتی بغیر دشت نوردی ہو کس طرح

اشکوں سے بحر ہو گیا صحرا نہیں رہا

مستی میں رات وہ نہ کھلے مجھ سے ہم نشیں

کچھ اعتبار نشۂ صہبا نہیں رہا

کیوں جائیں پھر کے کعبے سے نساخؔ دیر کو

وہ سر نہیں رہا وہ سودا نہیں رہا