Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

پیری میں دل شباب کا خواہاں کہاں رہا

وفا لکھنوی

پیری میں دل شباب کا خواہاں کہاں رہا

افلاس میں عروج کا ارماں کہاں رہا

سجدہ کیا بتوں کو تو ایماں کہاں رہا

اے بندۂ خدا تو مسلماں کہاں رہا

اعمال بد پہ اپنے جو رویا دم فنا

میرا سیاہ نامۂ عصیاں کہاں رہا

منصور نے کہا جو انا الحق ہوا نہ ضبط

سب راز فاش ہو گیا پنہاں کہاں رہا

رندوں کو پیٹھ پیچھے برا کہہ رہا ہے تو

واعظ مجھے بتا تو مسلماں کہاں رہا

رفتار یار دیکھ کے نادم ہوا کہاں

کبک دری چمن میں خراماں کہاں رہا

ان سے ضیائے چہرۂ جاناں جو دیکھ لے

تابندہ چرخ پر مہ تاباں کہاں رہا

اللہ رے زور دست جنوں کا بہار میں

سالم ہر ایک تار گریباں کہاں رہا

فصل بہار میں تھا یہ میرے جنوں کا زور

دامن کہاں رہا ہے گریباں کہاں رہا

نکلی جو روح جسم سے بیگانہ ہو گئی

تھا جو کہ اتحاد تن و جاں کہاں رہا

سنتے ہی عیب اور ہنر اس کا دیکھ لے

ایسی صفت کا کوئی سخنداں کہاں رہا

موسیٰ کو طور پر جو تجلی نظر پڑی

وارفتگی میں ہوش کا ساماں کہاں رہا

نظارہ روز کرتا تھا روئے نگار کا

پوشیدہ میری آنکھ سے قرآں کہاں رہا

سمجھے ہیں گھر خدا کا یہ بت خانہ وہ حرم

پھر اتفاق کفر و مسلماں کہاں رہا

کانٹوں میں پھنس کے ہو گیا صد چاک شکل گل

سالم بہار میں مرا داماں کہاں رہا

شمع سحر کی طرح سے بے نور ہو گیا

پیری میں داغ عشق نمایاں کہاں رہا

ہو نکتہ سنجیوں سے تری شاد اے وفاؔ

ایسا جہاں میں کوئی سخنداں کہاں رہا