Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوں

قاسم علی خان آفریدی

اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوں

موہوم ہوا تو کیا پر یار ہے اور میں ہوں

پڑتی ہے نظر جیدھر وہ یار ہے اور میں ہوں

ہے کون سوا میرے دل دار ہے اور میں ہوں

میں یار کنے قاصد بھیجا تو ہے پر شاید

لے نامہ اگر آیا ریبار ہے اور میں ہوں

موڑوں گا نہیں منہ کو میں عشق کے میداں سے

اس یار کے ابرو کی تلوار ہے اور میں ہوں

اب دیکھیے کیا نبٹے سینہ ہے سپر اپنا

وہ خنجر مژگاں کا خوں خار ہے اور میں ہوں

جب سے بہ صنم خانہ کی میں نے قدم بوسی

سو طرح کی زاہد سے تکرار ہے اور میں ہوں

راہب نے مرے قشقہ صندل کا لگایا ہے

ناقوس ہے گھنٹہ ہے زنار ہے اور میں ہوں

نفع و ضرر دنیا دنیا ہی پہ میں چھوڑا

اب عشق کا اے یارو بیوپار ہے اور میں ہوں

حیراں میں ہوں اے یارو کس واسطے افریدیؔ

رسوائی بہ ہر کوچہ بازار ہے اور میں ہوں