Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے

مردان علی خاں رانا

کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے

ہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھے

عمر بھر یوں تو کبھی لی بھی نہ کروٹ پس مرگ

حیف رہ رہ کے کیا کرتے ہیں اب یاد مجھے

حکم درباں کو ہے زنہار نہ آنے پائے

غیر کے سامنے کرتے ہیں مگر یاد مجھے

باغباں گلشن عالم کا میں وہ بلبل ہوں

طائر سدرہ کہا کرتا ہے استاد مجھے

ہم صفیروں کو مرا حال کھلے گا پس مرگ

دیکھنا دل میں کریں گے وہ بہت یاد مجھے

صحن گلشن میں مرے پھول کریں گے گلچیں

روئے گا سونا قفس دیکھ کے صیاد مجھے

راہ الفت میں ملاقات ہوئی کس کس سے

دشت میں قیس ملا کوہ میں فرہاد مجھے

غیب سے ہوتے ہیں القا مرے دل میں مضمون

دیکھ فیضان سخن کا ہے خداداد مجھے

سبز باغ آتا ہے دنیا کا نظر جب رعناؔ

یاد آتی ہے بہت حسرت شداد مجھے