Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئی

عبدالرحمان احسان دہلوی

چٹکیاں لی ہی کہ اٹھ بیٹھ جو مر جائے کوئی

اے ستم گر ترے ہاتھوں سے کدھر جائے کوئی

کیوں کی گزرے گی نہ گزرو گے جو تم یار ادھر

پس یہ مرضی ہے کہ بس جیسے گزر جائے کوئی

مرے مرنے سے ترا شہرہ ہوا یا قسمت

کہ بگڑ جائے کوئی اور سنور جائے کوئی

ایک دم کا بھی بھروسا نہیں مانند حیات

بحر ہستی میں حباب آ کے ابھر جائے کوئی

شمع ساں سر نہ کٹے اس کا یہ امکان نہیں

بزم خوباں میں جو با دیدۂ تر جائے کوئی

دل مرا تم نے چرایا مجھے الٹی ہے یہ فکر

نہ خبر پائے کوئی تا نہ بپھر جائے کوئی

آپ کے عہد میں یہ رسم ہے دیکھی ہم نے

کہ گنہ گار کوئی اور ہو ڈر جائے کوئی

گھر سے نکلو کہ ہمیں گھر کی نہ کچھ یاد رہے

گھر میں بیٹھے ہوئے کہتی ہو نہ گھر جائے کوئی

یوں تو سمجھے سنے آتی نہیں احساںؔ کو سمجھ

کیا تماشا ہو کہ دل لے کے مکر جائے کوئی