Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا

Qalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)

گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا

قید خانہ ہے عجب گنبد بے در اپنا

شکل رہنے کی ہے بستی میں یہ اس بن اپنی

جیسے جنگل میں بناتا ہے کوئی گھر اپنا

شب کی بے تابیاں کیا کہیے کہ دیکھا جو سحر

ٹکڑے ٹکڑے نظر آیا ہمیں بستر اپنا

ہم نشیں اس کو جو لانا ہے تو لا جلد کہ ہم

تھامے بیٹھے رہیں کب تک دل مضطر اپنا

وہ گئے دن کہ سدا مے کدۂ ہستی میں

بادۂ عیش سے لبریز تھا ساغر اپنا

تاب نظارہ تری لائے نہ خورشید ذرا

ہاتھ جب تک کہ نہ رکھ لے وہ جبیں پر اپنا

دیں گے سر عشق کے سودے میں اگرچہ ہم کو

اس میں نقصاں نظر آتا ہے سراسر اپنا

ہے زمیں خوب غزل در غزل اس کو کہیے

بس کہ معمول ہے جرأتؔ یہی اکثر اپنا