Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیں

عاشق اکبرآبادی

گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیں

دل کی سوئی ہوئی حسرت کو جگا دیتے ہیں

نو گرفتار قفس ہیں نہیں کرتے فریاد

جان کو تیری یہ صیاد دعا دیتے ہیں

طالب جلوۂ دیدار سمجھ کر مجھ کو

اک جھلک سی رخ روشن کی دکھا دیتے ہیں

ذبح کرتے ہیں تڑپنے نہیں دیتے مجھ کو

تہہ زانو مری گردن کو دبا دیتے ہیں

اپنے موقع پہ ہر اک بات بھلی ہوتی ہے

شب فرقت میں یہ صدمے بھی مزا دیتے ہیں

غیر کے کہنے سے در گور کہا کرتے ہیں

جیتے جی وہ مجھے پیغام قضا دیتے ہیں

میں وہ قیدی ہوں کہ سونے نہیں دیتے مجھ کو

آنکھ لگتی ہے تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

لے لیا بوسۂ رخسار تو کیا جرم کیا

پیار کی بات پہ ناحق وہ سزا دیتے ہیں

شمع محفل ہوں نہ عاشق نہ میں بوئے گل ہوں

مہ جبیں کیوں مجھے آنچل کی ہوا دیتے ہیں

ان کے قبضہ میں ہے کونین کی شاہی عاشقؔ

شاہ وہ دے نہیں سکتے جو گدا دیتے ہیں