Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو

Mirza Ghalib (1797–1869)

ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو

اے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو

اے زمزمۂ قم لب عیسی پہ فغاں ہو

اے ماتمیان شہ مظلوم کہاں ہو

بگڑی ہے بہت بات بنائے نہیں بنتی

اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی

تاب سخن و طاقت غوغا نہیں ہم کو

ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو

گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو

گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو

یہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے

کیا خیمۂ شبیر سے رتبے میں سوا ہے

کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا

کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا

کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا

ہو گا دل بیتاب کسی سوختہ جاں کا

اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے

گرتا نہیں اس رو سے کہو برق نہیں ہے