Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیا

آج اپنے ساتھ کا اک مرنے والا مر گیا

سننے والے خوب روئے میرے حال زار پر

یوں ہی اپنی عمر کا پیمانہ آخر بھر گیا

بازوئے قاتل تھکائے سخت جانی نے مری

بارہا اس ہاتھ سے اس ہاتھ میں خنجر گیا

ہم وہی گلشن وہی محفل وہی ساماں وہی

ایک ساقی کیا گیا لطف مے و ساغر گیا

ہو گئی غیروں کو بھی ناکام مرنے کی ہوس

میں کسی پر جان دے کر کام اپنا کر گیا

روح پرور ہے نگاہ ناز قاتل کا اثر

جس کو دیکھا جی اٹھا جس کو نہ دیکھا مر گیا

میں کبھی رویا تو وہ بولے ڈبویا نام عشق

اور اگر آنسو پی لئے تو دل میں دریا بھر گیا

ایسی ہی غفلت رہی گر میرے حال زار پر

ایک دن احباب سن لیں گے نظرؔ بھی مر گیا