Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیں

بیتاب عظیم آبادی

ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیں

آج تک میں نے اسے دیکھا نہیں

کہنے والے نے تو سب کچھ کہہ دیا

سننے والا ایک بھی سمجھا نہیں

ماہ میں کس کو سناؤں حال زار

خواب میں بھی وہ نظر آیا نہیں

جب نظر ہو منزل مقصود پر

روک سکتی راہ کی ایذا نہیں

آرزو ہی اس کی دل میں رہ گئی

ہاتھ دامن تک کبھی پہونچا نہیں

بزم ساقی میں ہوئے وہ سرفراز

جام جن کے ہاتھ میں چھلکا نہیں

وعدۂ فردا کی پھر تفصیل کر

کیا کہا تو نے کوئی سمجھا نہیں

ہے غضب پھر صور نے چونکا دیا

نیند بھر کر میں ابھی سویا نہیں

اپنا سا منہ لے کے شانہ رہ گیا

پیچ گیسو کا کوئی سلجھا نہیں

کسب ہر دم کچھ نہ کچھ کرتی ہے روح

جیسا کل تھا آج میں ویسا نہیں

جو نہیں مست شراب بے خودی

اس نے لطف زندگی پایا نہیں

جیتے جی اپنے کو کر دیتا تھا خاک

موت سے مرنا کوئی مرنا نہیں

یاد اے بیتابؔ رکھنا یار کو

پار ہے بیڑا اگر بھولا نہیں