Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائے

شبلی نعمانی

یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائے

گل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائے

اس میں در پردہ سمجھتے ہیں وہ اپنا ہی گلہ

شکوۂ چرخ بھی زنہار نہ ہونے پائے

فتنۂ حشر جو آنا تو دبے پاؤں ذرا

بخت خفتہ مرا بیدار نہ ہونے پائے

ہائے دل کھول کے کچھ کہہ نہ سکے سوز دروں

آبلے ہم سخن خار نہ ہونے پائے

باغ کی سیر کو جاتے تو ہو پر یاد رہے

سبزہ بیگانہ ہے دو چار نہ ہونے پائے

جمع کر لیجئے غمزوں کو مگر خوبئ بزم

بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے

آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں لیکن شبلیؔ

حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے