Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا

Mirza Rafi Sauda (1713–1781)

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا

کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا

سرگرم نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیب

مت آشیاں چمن میں مرے متصل بنا

جب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشق

بولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سل بنا

جس تیرگی سے روز ہے عشاق کا سیاہ

شاید اسی سے چہرۂ خوباں پہ تل بنا

لب زندگی میں کب ملے اس لب سے اے کلال

ساغر ہماری خاک کو متھ کرکے گل بنا

اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گر

ٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دل بنا

سن سن کے عرض حال مرا یار نے کہا

سوداؔ نہ باتیں بیٹھ کے یاں متصل بنا