Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی

آغا شاعر قزلباش

یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی

تمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کی

شکایت کس سے کیجے ہائے کیا الٹا زمانہ ہے

بڑھایا پیار جب ہم نے محبت یار نے کم کی

جگر میں درد ہے دل مضطرب ہے جان بے کل ہے

مجھے اس بے خودی میں بھی خبر ہے اپنے عالم کی

نہیں ملتے نہ ملئے خیر کوئی مر نہ جائے گا

خدا کا شکر ہے پہلے محبت آپ نے کم کی

عدو جس طرح تم کو دیکھتا ہے ہم سمجھتے ہیں

چھپاؤ لاکھ تم چھپتی نہیں ہے آنکھ محرم کی

مزہ اس میں ہی ملتا ہے نمک چھڑکو نمک چھڑکو

قسم لے لو نہیں عادت مرے زخموں کو مرہم کی

کہاں جانا ہے تھم تھم کر چلو ایسی بھی کیا جلدی

تم ہی تم ہو خدا رکھے نظر پڑتی ہے عالم کی

کوئی ایسا ہو آئینہ کہ جس میں تو نظر آئے

زمانے بھر کا جھوٹا کیا حقیقت ساغر جم کی

گھٹائیں دیکھ کر بے تاب ہے بے چین ہے شاعرؔ

ترے قربان او مطرب سنا دے کوئی موسم کی