Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آنکھ اٹھائی نہیں وہ سامنے سو بار ہوئے

مفتی صدر الدین خان آزردہ

آنکھ اٹھائی نہیں وہ سامنے سو بار ہوئے

ہجر میں ایسے فرامش گر دیدار ہوئے

کامل اس فرقۂ زہاد میں اٹھا نہ کوئی

کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے

نہ اٹھی بیٹھ کے خاک اپنی ترے کوچے میں

ہم نہ یاں دوش ہوا کے بھی کبھی یار ہوئے

صبح لے آئنہ اس بت کو دکھایا ہم نے

رات اغیار سے ملنے کے جو انکار ہوئے

کچھ تعجب نہیں گر اب کے فلک ٹوٹ پڑے

آج نالے جو کوئی اور بھی دو چار ہوئے

مصر میں آج تجھے دیکھ کے پچھتائے ہیں

سادہ لوحی سے جو یوسف کے خریدار ہوئے

مبتذل میں ہی تو ہوں آپ جو کہیے سچ ہے

رات جھگڑے تو مجھی پر سر بازار ہوئے

یہ ہیں آزردہؔ جو کہتے ہوئے شیاً اللہ

آج دریوزہ گر خانۂ خمار ہوئے