Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا

ناصری لکھنوی

اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا

کیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جانا

نزع میں بڑھ کے کھٹک دل سے یہی کہتی ہے

آج تو درد کا ممکن ہے دوا ہو جانا

لے کے پیغام قضا باد بہاری آئی

نا مبارک ہوا زخموں کا ہرا ہو جانا

عرش تھرائے گا اغیار کے دل ٹوٹیں گے

نالہ کرتا ہوں مگر تم نہ خفا ہو جانا

دم نکلنا ہے یہی جان کا جانا ہے یہی

دل کا آساں نہیں پہلو سے جدا ہو جانا

پس مردن بھی رہے خانۂ زنجیر میں پاؤں

اس طرح چاہیے پابند وفا ہو جانا

زلزلے آ کے زمانے کو خبر دیتے ہیں

نہیں ممکن تپش دل کا فنا ہو جانا

جان لے جائے گا اور درد بڑھا جائے گا

ہاتھ تیرا مرے سینے سے جدا ہو جانا

ابھی بیٹھے رہو میں دیکھ رہا ہوں تم کو

نزع کے وقت گلے مل کے جدا ہو جانا

سمجھو کس درجہ ہے سوز غم الفت دشوار

دیکھ پروانوں کا جل جل کے فنا ہو جانا

زہر بھر دیتا ہے زخموں میں دل وحشی کے

فصل باراں میں بیاباں کا ہرا ہو جانا

ناصریؔ پھر وہی ہم ہیں وہی شوریدہ سری

پھر وہی حاضر بزم شعرا ہو جانا