Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیا

شوق قدوائی

ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیا

ہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیا

نشے میں جا گرا جو میں مسجد میں سر کے بل

زاہد نے مجھ پہ سجدے کا الزام رکھ دیا

جھچکا وہ خوف کھا کے تو میں نے تڑپ کے خود

برچھی کی نوک پر دل ناکام رکھ دیا

دلچسپ نام سن کے لگے مانگنے حسیں

کس نے ذرا سے خون کا دل نام رکھ دیا

اتنی تو اس نے کی مری دل سوزیوں کی قدر

تربت پہ اک چراغ سر شام رکھ دیا

جوڑا جو بندھ گیا تو نئے دل کہاں پھنسیں

تو نے ادھر لپیٹ کے کیوں دام رکھ دیا

آنکھ اس ادا سے اس نے دکھائی کہ میں نے شوقؔ

چپکے سے اپنا مے کا بھرا جام رکھ دیا