Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں

پنڈت ہری چند اختر

ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں

نہیں چاہتا ان کو یا چاہتا ہوں

وہ کہتے ہیں تم مجھ سے کیا چاہتے ہو

یہی کچھ تو میں جاننا چاہتا ہوں

مری نیتوں پر نظر رکھنے والو

خدارا بتا دو میں کیا چاہتا ہوں

نہ سمجھا کوئی جس کو وہ حرف ہوں میں

غلط ہو گیا ہوں مٹا چاہتا ہوں

وہ پرجوش آنسو وہ خاموش آہیں

وہی عشق کی ابتدا چاہتا ہوں

میں سمجھا وہ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں

وہ سمجھے کہ میں کچھ کہا چاہتا ہوں

امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں

مٹانے کے لئے دنیا نئی ایجاد کرتا ہوں

تری میعاد غم پوری ہوئی اے زندگی خوش ہو

قفس ٹوٹے نہ ٹوٹے میں تجھے آزاد کرتا ہوں

جفا کارو مری مظلوم خاموشی پہ ہنستے ہو

ذرا ٹھہرو ذرا دم لو ابھی فریاد کرتا ہوں

میں اپنے دل کا مالک ہوں مرا دل ایک بستی ہے

کبھی آباد کرتا ہوں کبھی برباد کرتا ہوں

ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں ملاقاتوں کے بعد اکثر

وہ مجھ کو بھول جاتے ہیں میں ان کو یاد کرتا ہوں

خودی کی ابتدا یہ تھی کہ اپنے آپ میں گم تھا

خودی کی انتہا یہ ہے خدا کو یاد کرتا ہوں

بتوں کے عشق میں کھویا گیا ہوں ورنہ اے اخترؔ

خدا شاہد ہے میں اکثر خدا کو یاد کرتا ہوں