Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ابر ساں ہر چند رکھا چشم کو پر آب ہم

قاسم علی خان آفریدی

ابر ساں ہر چند رکھا چشم کو پر آب ہم

کر سکے پر کشت الفت کا نہیں شاداب ہم

ہجر کی آتش نے ایسا قرب دل پیدا کیا

بے قرارانہ تڑپتے اب ہیں جوں سیماب ہم

چھا گئیں زلفیں کسی مکھڑے پہ جوں آکاس پوں

خود بخود کھاتے ہیں پیچ و تاب جوں لیلاب ہم

گرد باد آسا پڑے پھرتے ہیں باغ و راغ میں

مسکن و ماویٰ کہاں رکھتے ہیں در یک باب ہم

دیکھ لینے دے تو اپنے کان کا بوندا ہمیں

پھر کہاں پاویں گے ظالم یہ در نایاب ہم

زندگی پھسلا کے لائی یاں ہزار افسوس آہ

پھنس گئے بے طرح اس دنیا کے در خلاب ہم

یاں ہے فکر معیشت واں ہے اندیشہ معاد

ہیں بہ گرداب غم دنیائے دوں غرقاب ہم

منکشف ہوتی حقیقت مرگ گر روز الست

ہرگز اے دہر از عدم کرتے نہیں پیشاب ہم

مت کر افریدیؔ کو اس مسلخ میں پابند آخرش

ذبح ہو جاویں گے تیرے ہاتھ اے قصاب ہم