Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹا

ورق انجمن دہر سراسر الٹا

دیکھنے والے کو دنیا ہے سراپا تصویر

گو ہے آئینے میں عکس رخ دلبر الٹا

کر دیا آ کے چمن کو تہ و بالا کس نے

کوئی سیدھا ہے یہاں کوئی گل تر الٹا

ناز سے مجھ کو سر بزم جو ساقی نے دیا

ہاتھ تھرائے کچھ اس طرح کہ ساغر الٹا

اے خدا کیا یوں ہی آتی ہے کسی دوست کی یاد

آ گیا منہ کو کلیجہ دل مضطر الٹا

داد خواہان محبت کا یہ انبوہ کثیر

دل مرا دیکھ کے ہنگامۂ محشر الٹا

جس پہ کہ بیٹھ کے واعظ نے مذمت مے کی

مجلس وعظ میں رندوں نے وہ منبر الٹا

یا زمانے میں محبت کے فسانے ہیں غلط

یا مرا نقش وفا ہے مرے دل پر الٹا

تا کجا اے دل بیمار یہ راحت طلبی

عمر بھر جب سے بچھا پھر نہ یہ بستر الٹا

اٹھ گئی آج زمانے سے بساط الفت

بستر مرگ مرا اس نے یہ کہہ کر الٹا

اشک باریٔ شب ہجر کا کیا حال لکھوں

دیدۂ تر نے نظرؔ ایک سمندر الٹا