Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کی

بوم میرٹھی

اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کی

توڑ کے پھینک دیں سب کھڈیاں پاخانے کی

کوستا ایسے ہے مردود ہمیشہ مجھ کو

کبھی مانگی نہ دعا غیر کے مر جانے کی

کھنچ رہا ہے وہ شب وصل کا نقشۂ دل میں

یاد ہے ہم کو ادائیں تیرے شرمانے کی

جب سے اس شوخ کی زلفوں کا لیا ہے بوسہ

بڑھ گئی اور بھی وحشت دل دیوانے کی

شیخ صاحب نے تو پوچھا تھا پتہ مسجد کا

راہ رندوں نے بتا دی اسے میخانے کی

آ گئی اب تو جوانی ہوا بچپن رخصت

کیا ضرورت ہے شب وصل میں گھبرانے کی

خلوت یار میں رہنے کو جگہ مل جائے

نہ تو کعبہ کی ضرورت ہے نہ بت خانے کی

دال روٹی کا بڑا فکر تھا یہ بھی چھوٹا

ہو گئی جب کہ یہ عادت ہمیں غم کھانے کی

کمسنی میں نہ اگر غیر سے جا کر ملتے

ہم کبھی دیکھتے صورت نہ شفا خانے کی

جھوٹی سچی کی نہیں فکر خوشی تو یہ ہے

ان کو عادت ہے مرے سر کی قسم کھانے کی

دل میں آتا ہے کہ دشمن کے لگاؤں جوتے

لے گیا سالا سلیپر مری دس آنے کی

منہ کیا رات کو کالا جو زبردستی سے

کیا ضرورت تھی تمہیں غیر کے گھر جانے کی

اپنے مرنے کی خبر یار نے جھوٹی بھیجی

خوب تدبیر نکالی مرے مر جانے کی

جب یہ دیکھا کہ نہاتے ہیں وہ ننگے ہو کر

کھڑکیاں توڑ دیں سب میں نے غسل خانے کی

دونوں ٹھنڈک میں پڑے رہتے ہیں باہم لیٹے

یاد بھی ہے وہ تمہیں بات برف خانے کی

جب سے آنکھوں پہ پڑا عکس ترے جلوے کا

ہوئی اس روز سے عادت مجھے چندھیانے کی

ایک دن وہ تھا کہ وہ اڑ کے چلا کرتے تھے

ایک دن یہ ہے کہ عادت ہوئی کترانے کی

اس کے در کا نہ میاں بومؔ نے پیچھا چھوڑا

اینٹ سے اینٹ بجا کر رہے تہہ خانے کی