Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی

راغب بدایونی

ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی

جان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئی

اب تو تم گور غریباں کو چلو بے پردہ

اس کی شمعوں کو ہوا جا کے بجھا بھی آئی

ہجر میں عرش سے ناکام دعا ہی نہ پھری

نارسا ہو کے مری آہ رسا بھی آئی

بات پوری نہ سنی ہم نے کبھی ناصح کی

ٹوک اٹھے اپنی سمجھ میں جو ذرا بھی آئی

پھیر لی رخ سے نظر اس نے کس انداز کے ساتھ

آئنے میں جو نظر اپنی ادا بھی آئی

دیکھ کر حال مرا ان سے ہنسی رک نہ سکی

روکنے کے لئے ہر چند حیا بھی آئی

نعش پہ آ کے مری اس نے وہ باتیں چھیڑیں

ہر عزادار کو عبرت بھی حیا بھی آئی

نگہ شوق نے کیا راز نہاں فاش کیا

ہم سے پردہ بھی ہوا آج حیا بھی آئی

نزع میں آ کے مری صرف یہ پوچھا اس نے

اب بتاؤ کسی مصرف میں وفا بھی آئی

دل ہی خستہ نہ ہوا لشکر غم کے ہاتھوں

بلکہ اس معرکے میں کام دعا بھی آئی

دعویٰ سحر بیانی ہے عبث اے راغبؔ

میرؔ صاحب کی تمہیں طرز ادا بھی آئی