Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اعجاز تصور

تصدق حسین خالد

راہ دیکھی نہیں اور دور ہے منزل میری

کوئی ساقی نہیں میں ہوں مری تنہائی ہے

دیکھنی ہے مجھے حیرانی سے تاروں کی نگاہ

دور ان سے بھی کہیں دور مجھے جانا ہے

اس بلندی پہ اڑے جاتا ہے تو سن میرا

کہکشاں گرد سی دیتی ہے دکھائی مجھ کو

رفعت گوش سے سنتا ہوا مبہم سا شرار

میری منزل ہے کہا یہ کبھی سوچا ہی نہیں

اس کی فرصت ہی کسے دل میں مگر رہتا ہے

درد وہ درد کہ ہے جس سے کمنا بیتا

جانے کچھ راہ مرے ساتھ ہوا تھا لیکن

رہ گیا دور کہیں ہار کے ہمت اپنی

زہرہ کہنے لگی اے بزم فلک کے قاصد

زرد رو پہلی ہی منزل میں ہوا تو کیوں کر

جب کہ وہ خاکئی بے مایہ بڑھے جاتا ہے

پست ہر ایک بلندی کو کٹے جاتا ہے

بھڑکے اک آہ کہا چاند نے یوں زہرہ سے

اے نگار رخ زیبائے بہار افلاک

میں بھی حیران ہوں اس ہمت عالی پہ کہیں

حسن سلمیٰ کے تصور کا یہ اعجازؔ نہ ہو

یہ جواں حوصلگی پردہ در راز نہ ہو