Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے

سید محمد عبد الغفور شہباز

انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے

ثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہے

ہم شوق کا نامہ لکھتے ہیں کہ صبر اے دل کیوں روتا ہے

یہ کیا ترکیب ہے اے ظالم ہم لکھتے ہیں تو دھوتا ہے

ہے دل اک مرد آخر بیں اپنے اعمال پر روتا ہے

گر ڈوب کے دیکھو اشک نہیں موتی سے کچھ یہ پروتا ہے

گھر اس سے عشق کا بنتا ہے دل سختی سے کیوں گھبرائے

شیریں یہ محل اٹھواتی ہے فرہاد یہ پتھر ڈھوتا ہے

ٹھکرا کر نعش ہر عیسیٰ کہتا ہے ناز سے ہو برہم

اٹھ جلد کھڑے ہیں دیر سے ہم کن نیندوں غافل سوتا ہے

ہم رو رو اشک بہاتے ہیں وہ طوفاں بیٹھے اٹھاتے ہیں

یوں ہنس ہنس کر فرماتے ہیں کیوں مرد کا نام ڈبوتا ہے

کیا سنگ دلی ہے الفت میں ہم جس کی جان سے جاتے ہیں

انجان وہ بن کر کہتا ہے کیوں جان یہ اپنی کھوتا ہے

لے دے کے سارے عالم میں ہمدرد جو پوچھو اک دل ہے

میں دل کے حال پہ روتا ہوں دل میرے حال پہ روتا ہے

دکھ درد نے ایسا زار کیا اک گام بھی چلنا دوبھر ہے

چلئے تو جسم زار اپنا خود راہ میں کانٹے بوتا ہے

وہ امنگ کہاں وہ شباب کہاں ہوئے دونوں نذر عشق مژہ

پوچھو مت عالم دل کا مرے نشتر سا کوئی چبھوتا ہے