Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبح

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبح

شام تک بچتا نظر آتا نہیں بیمار صبح

مجھ کو بھی اے شمع رو لے وصل کی شب ہے اخیر

اور دو آنسو بہا اے کشتۂ آزار صبح

کھو دیا طول شب فرقت نے لطف انتظار

دیدۂ بے خواب کو ہے حسرت دیدار صبح

وصل کی شب بجھ گیا تھا جو ہمارا داغ دل

مہر بن کر اب وہی ہے طرۂ دستار صبح

صبح سے پہلے الٹ دی اس نے چہرے سے نقاب

اب کوئی کافر بھی کر سکتا نہیں انکار صبح

رات بھر میری زباں پر سر گذشت شام غم

ان کے لب ہیں آشنائے لذت گفتار صبح

وصل کی بے لطفیاں بھی لطف سے خالی نہیں

رات بھر دل کو مزہ دیتی رہی تکرار صبح

عید ملنے آئیں وہ گر عید کا نکلا ہے چاند

شام آئے ساتھ لے کر دولت بیدار صبح

وصل میں ہے اپنی قسمت کی خلش بھی یادگار

دامن شب سے الجھ جاتے ہیں اکثر خار صبح

دے صبوحی جلد ساقی اب نہیں ماہ صیام

بے سبب کیوں راہ دیکھیں شام کی مے خوار صبح

دیکھنا کیا جلد گزری ہے شب وعدہ نظرؔ

وہ ادھر آئے ادھر ظاہر ہوئے آثار صبح