Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیں

نشتر چھپروی

ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیں

صبح کہتے ہیں ہاں تو شام نہیں

ذکر دشمن پہ کیوں بگڑتے ہو

مہرباں آپ کا تو نام نہیں

مجھ کو کمبخت کیوں کہو ہر دم

میری جاں یہ تو میرا نام نہیں

برہمن ہم ہوئے مسلماں سے

اب بھی کافر تو ہوگا رام نہیں

در پہ ہے پاسبان میرے لئے

غیر جائے تو روک تھام نہیں

غیر پر خم کے خم لنڈھاتے ہو

میرے حصے کا کوئی جام نہیں

مست ہو کر وہ شیخ کا کہنا

مفت کی ہو تو مے حرام نہیں

جب کہا تم عدو پہ مرتے ہو

بولے اس میں کوئی کلام نہیں

غیر کیوں جا رہے ہیں مقتل کو

امتحاں میرا قتل عام نہیں

بس تمہارا غلام ہو کے رہوں

چاہئے مجھ کو اور نام نہیں

مست رکھتی ہے چشم مست اس کی

مجھ کو اب آرزوئے جام نہیں

ہنس پڑے ذکر وصل دشمن پر

یعنی میرا خیال خام نہیں

عید کا دن ہے پی بھی لے اک جام

اب تو زاہد مہ صیام نہیں

تیری عیاریاں سمجھتا ہوں

تجھ کو اور دشمنوں سے کام نہیں

کم ہے کب روز ہجر سے شب غم

صبح اس کی تو اس کی شام نہیں

غیر ہی فیضیاب رہتا ہے

مہربانی تمہاری عام نہیں

ایک چپ سی لگی ہے نشترؔ کو

جب سے وہ شوخ ہم کلام نہیں