Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

انداز کہیں دیکھا ہے مستانہ کسی کا

نواب امراوبہادر دلیر

انداز کہیں دیکھا ہے مستانہ کسی کا

شیدا ہی ہوا پھر دل دیوانہ کسی کا

ساقی نگہ مست سے تیری جو لڑے آنکھ

سرشار نہ کیوں کر رہے پیمانہ کسی کا

مسکن ہے خرابی کا تباہی کا ٹھکانہ

دل سے مرے بڑھ کر نہیں ویرانہ کسی کا

حوروں میں نہ یہ ناز نہ پریوں میں یہ انداز

پاتے ہیں چلن سب سے جداگانہ کسی کا

کہتے ہیں رقیبوں سے وہ سن کر مرے اشعار

مضموں ہمیں خوش آتا ہے رندانہ کسی کا

کچھ بنت عنب پر ترا قبضہ نہیں واعظ

ٹھیکے میں نہیں ہے ترے مے خانہ کسی کا

بھیجا ہے سوئے مے کدہ جو ابر خدا نے

مقبول ہوا نعرۂ مستانہ کسی کا

یاد آتا ہے کیا کیا طلب بوسۂ لب پر

منہ پھیر کے گھونگھٹ میں وہ شرمانا کسی کا

ذکر شب غم سن کے دلیرؔ ان کا بھی کہنا

ہم نیند میں سنتے نہیں افسانہ کسی کا