Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

انار کلی

یوسف ظفر

تیرے غم میں کتنا نازک ہو گیا ہے دل کہ اب

اس بھرے بازار میں

ہر صدا اک اجنبی احساس کا آئینہ ہے

آج تیرے غم سے فارغ ہو کے میں

بہہ رہا ہوں لذت اظہار کے سیلاب میں

لڑکھڑاتے رینگتے لنگڑاتے ہنستے بولتے

لفظ اور ان کا دھواں خوشبو چمک

چل رہے ہیں مل کے بے آہنگ آوازوں کے رنگ

اجنبی ہونٹوں کے لفظ

آرزؤں کے غبارے حسرتوں کی تتلیاں

چار سو اڑتی ہیں میں خاموش ہوں

گفتگو کے دائروں میں پھیل کر

رنگ بھرتا جا رہا ہے ان تمناؤں کا خوں

جن کے لفظوں نے زباں دی سننے والوں کا خیال

ان میں ڈوبا جا رہا ہے بولتے لفظوں کا سحر

اس کو اپنے دام میں لاتا ہوا

پھیل کر آتا ہے مجھ تک پیچ و خم کھاتا ہوا

اور میں

اس کی کیفیت کا غازہ اپنے چہرے پر لگائے

اک نئی آواز کے سائے میں ہوں

چاہتا ہوں بند آنکھوں سے میں اس سیلاب میں

کود جاؤں اور نظارہ کروں

اپنے کانوں سے دلوں کے ترجماں الفاظ کا

صورت گویا سے بڑھ کر ہے سخن انداز کا

نقرئی آواز میں لفظوں کا نور

اپنے ہم راہی کے دل پر نغمہ بار

جیسے شبنم دامن گل پر گرے بے اختیار

اس صدا میں حرف ہیں یا موم کے آنسو ہیں جو

شمع کے پہلو میں گرتے جا رہے ہیں کیا کروں

آنکھیں کھولوں اور اس بچی کی صورت دیکھ لوں

اس صدا میں نخوت زر کا جلال

جیسے پربت سے گرے جھرنا کوئی

سنگ اسود کی چٹانیں توڑنا

دوست ہم سن ہم سخن

جن کے سادہ صاف سے انداز میں

کوئی ماضی کوئی مستقبل نہیں

حال کے لمحات رنگیں قہقہے پھولوں کے ہار

اور اس آواز میں

زیست کی محرومیاں زنجیر در زنجیر ہیں

کھولتے لفظوں کی بھاپ

دل کے آئینے کو دھندلاتی ہے ہاتھ

خود بخود بڑھتا ہے اپنی جیب کی جانب مگر

یہ گدا بھی تو نہیں

اور اس آواز میں حرص و ہوس کا زہر ہے

لفظ تیروں کی طرح اڑتے ہوئے

سینۂ احساس میں پیوست ہوتے ہیں مگر

دل سے نفرت کے سوا کوئی صدا اٹھتی نہیں

اور یہ آواز میری دوست دار دل تری آواز ہے

کتنے نغمے گونجتے ہیں کتنی راتوں کا خمار

کتنے رنگوں کا تلاطم کتنے پھولوں کی ہنسی

سرسراتے ریشمیں ملبوس کے مانند یہ تیری صدا

ڈھانپتی ہے گرمئی آغوش سے پرواز میں

کھو گئی ہیں ساری آوازیں تری آواز میں