Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ان پہ رشک آتا ہے یہ لوگ ہیں قسمت والے

شاہ اکبر داناپوری

ان پہ رشک آتا ہے یہ لوگ ہیں قسمت والے

راہ میں تیری مٹے تیری محبت والے

تیرے ہی غم میں مرے تیری محبت والے

پاک دل لے کے گئے پاک طبیعت والے

کھائے لیتے ہیں عبث جان نصیحت والے

عشق سے باز نہ آئیں گے محبت والے

اس کے سودائیوں کو نام و نشاں سے مطلب

بے نشاں لوگ ہیں یہ عشق و محبت والے

منزل عشق میں آتے ہی ہوئے خاک بسر

مٹ گئے مٹنے سے پہلے ہی محبت والے

آ گیا بار نظر سے عرق ان گالوں پر

یہ ہیں وہ ہم جنہیں کہتے ہیں نزاکت والے

نہ ہمیں شاہوں سے مطلب نہ امیروں سے غرض

ہم حسینوں کے ہیں بندے یہ ہیں دولت والے

دار پر چڑھ کے بھی منصور کی مستی نہ گئی

کلمہ پڑھتے ہیں اسی مست کا سب متوالے

تیرے قامت پہ ہے زیبا وہی اطلس کی قبا

اپنی صورت نہ بدل چاند سی صورت والے

وہ جدھر جاتا ہے چلاتی ہے یوں خلق خدا

دیکھتا جا ادھر او چاند سی صورت والے

یہ مرے عرس کی شب ہے کہ عروسی کی ہے رات

ہیں حسینان گل اندام زیارت والے

یا خدا وصل کبھی ہوگا نصیب اس بت کا

ہم سے کم بخت بھی کہلائیں گے قسمت والے

میرے گھر آیا جو وہ مہر منیر اے اکبرؔ

مجھ سے کہتا ہے کہ اب تو ہوئے قسمت والے