Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے

Dagh Dehlvi (1831–1905)

اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے

پاس آئے تو گھبرائے سوالوں سے ہمارے

یہ کہتے ہیں بلبل سے وہ گل ہاتھ میں لے کر

تو دیکھ ملا کر اسے گالوں سے ہمارے

کیا برہنہ پا دشت میں لاکھوں بھی نہ ہوں گے

کانٹوں کو مگر چھیڑ ہے چھالوں سے ہمارے

ہر وقت نئی دھن ہے ہمیں تازہ تصور

جاؤ گے کہاں بچ کے خیالوں سے ہمارے

کہتی ہیں وہ آنکھیں صف مژگاں کو بڑھا کر

ہے کون جو روکش ہو رسالوں سے ہمارے

اے داغؔ فلک دشمن ارباب ہنر ہے

ظالم کو خبر ہو نہ کمالوں سے ہمارے