Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اٹھا لے جائیں گلشن سے کدھر ہم آشیاں اپنا

وحیدالدین احمد وحید

اٹھا لے جائیں گلشن سے کدھر ہم آشیاں اپنا

ہوا ہے عین فصل گل میں دشمن باغباں اپنا

کوئی شب اور وہ رشک قمر ہے مہماں اپنا

دکھا لے چار دن کی چاندنی یہ بھی سماں اپنا

نہیں ہیں کون سی جا موت کی حسرت میں سرگرداں

فلک کرتا ہے وعدہ دیکھیے پورا کہاں اپنا

برے دن میں زمیں کب پاؤں کے نیچے ٹھہرتی ہے

کیا کرتے ہیں شکوہ ہم نہیں ہے آسماں اپنا

چمن نازاں ہے کیا اپنی بہار چند روزہ پر

لیے جاتا ہے دل شوق بہار جاوداں اپنا

پلک کو دے کے جنبش پھر گئی ہم سے جو آنکھ ان کی

ہوا پر اڑ گئی کشتی اٹھا کر بادباں اپنا

نہیں ہوش و خرد کی برہمی سودائے گیسو میں

اندھیری رات میں یہ لٹ رہا ہے کارواں اپنا

بنایا دونوں عالم سے جدا اک اور ہی عالم

جو پوچھا بے خودی سے ایک دن نام و نشاں اپنا

سمجھ رکھو وہیں وہ خود نما بھی جلوہ گر ہوگا

صفائے دل دکھاتی ہوگی آئینہ جہاں اپنا

حلاوت سے مزے سے لطف و شیرینی سے مملو ہے

زباں اپنی سخن اپنا کلام اپنا بیاں اپنا