Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملے

مفتی صدر الدین خان آزردہ

اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملے

اس سے طریق صلح کے کیا صلح گر ملے

باہم سلوک تھا پہ ترے دور حسن میں

یہ رسم اٹھ گئی کہ بشر سے بشر ملے

دل محو چشم یار تھا بیمار ہو گیا

کچھ ان پرستشوں کا بھی آخر ثمر ملے

اے نالہ تو نے ساتھ دیا آہ کا تو کیا

امید کیا اثر کی جو دو بے اثر ملے

صدمہ جگر پہ پہنچے تو ہو دل میں کیوں نہ درد

کیا فرق کچھ جدا نہیں ہیں دل جگر ملے

ہم کو ہمارے طالع بد نے ڈبو دیا

اچھے تھے گر نصیب تو کیوں چشم تر ملے

دھوؤں صد آب تیغ سے اے پنبہ جو کبھو

دامن سے تیرے دامن داغ جگر ملے

امید بو میں اس کی ملے یوں صبا سے ہم

جس طرح بے خبر سے کوئی بے خبر ملے

جو کچھ نہ دیکھنا تھا سو وہ دیکھنا پڑا

اس بے وفا سے پہلے تھے کیا دیکھ کر ملے

دیکھے ہنر جو اپنے ہی وہ جانے اس کا کام

ہم کو تو عیب دیکھ کے اپنے ہنر ملے

مہر جہاں فروز دکھا دوں جبیں کو میں

گر سنگ آستانۂ خیر البشر ملے

ملنے سے اس کی گھٹتی ہے کیا تیری شان حسن

آزردہؔ خستہ جاں بھی ملے تو اگر ملے