Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتا

نشتر چھپروی

اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتا

اک میں کہ کبھی ساتھ بٹھایا نہیں جاتا

سننے کو تو راضی ہیں وہ حال دل بیتاب

افسوس مجھی سے یہ سنایا نہیں جاتا

اس ضعف و نقاہت کا برا ہو کہ شب وصل

وہ پاس ہیں اور ہاتھ لگایا نہیں جاتا

تم دیکھ کے مجھ کو تو گرا دیتے تھے پردہ

منہ سامنے غیروں کے چھپایا نہیں جاتا

جس روز سے اغیار نے بھڑکایا ہے ان کو

میں بزم میں اس دن سے بلایا نہیں جاتا

خط غیر کا بھیجا ہے مجھے یار نے قاصد

قسمت کا لکھا سچ ہے مٹایا نہیں جاتا

غم دوست وہ ہوں میری تسلی نہیں ہوتی

جب تک کہ میں جی بھر کے ستایا نہیں جاتا

لے لے کے مرا نام دیا کرتے ہیں گالی

میں دل سے کبھی ان کو بھلایا نہیں جاتا

آنکھیں تو ملاتے ہیں غضب ناک وہ ہو کر

افسوس ہے دل ان سے ملایا نہیں جاتا

اب ضبط فغاں کا نہیں یارا مجھے ہرگز

راز دل بیتاب چھپایا نہیں جاتا

اللہ ر نزاکت کہ مرے قتل پہ نشترؔ

اس شوخ سے خنجر بھی اٹھایا نہیں جاتا