Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا

علی منظور حیدرآبادی

اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا

لذت فنا چکھی زیست کا مزا پایا

منزلوں کی سختی کا غم نہیں خوشی یہ ہے

کس ہجوم حسرت میں ہم نے راستہ پایا

قدر اس کی پہچانیں آپ یا نہ پہچانیں

اپنے دل کو ہم نے تو حسب مدعا پایا

بے خودی کی حسرت کیا بے سبب میں کرتا تھا

آ کے ہوش میں سمجھا بے خودی میں کیا پایا

شیخ یہ تہی ساغر ہاں اسی کو ساقی نے

میرے کام کا پایا یا تیرے کام کا پایا

حسرتیں سراسیمہ ہر طرف نظر آئیں

کاروان دل میں نے پھر لٹا ہوا پایا

میری مستیاں سمجھیں تیری شوخیاں جانیں

تو نے کیا لیا مجھ سے میں نے تجھ سے کیا پایا

سب یہ رنگ آمیزی ہے فقط تخیل کی

کیا بتاؤں کیا کھویا کیا جتاؤں کیا پایا

پاس بیٹھ کر میرے دیکھتے نہیں مجھ کو

ان کی شرم کو میں نے صبر آزما پایا

سعی پیہم اے منظورؔ اس قدر نشاط افزا

ناامید کس سے تھے کس سے یہ صلہ پایا