Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابل

مفتی صدر الدین خان آزردہ

اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابل

تو کیوں ہوتے دنیا میں آنے کے قابل

کروں چاک سینہ تو سو بار لیکن

نہیں داغ دل یہ دکھانے کے قابل

ملیں تم سے کیونکر رہے ہی نہیں ہم

بلانے کے قابل نہ آنے کے قابل

چھٹے بھی قفس سے تو کس کام کے ہیں

نہیں جب چمن تک بھی جانے کے قابل

بجز اس کے تھے خاک پہلے بھی اے چرخ

نہ تھے خاک میں پھر ملانے کے قابل

کیا ترک دنیا میں جب تو یہ سمجھے

کہ دنیا نہیں دل لگانے کے قابل

وہ آئے دم نزع کیا کہہ سکیں

نہیں ہونٹ تک بھی ہلانے کے قابل

خدایا یہ رنج اور یہ ناصبوری

نہ تھے ہم تو اس آزمانے کے قابل

رہے ہم نہ کچھ مصطفیٰ خاں کے غم میں

نہ فکر سخن نے پڑھانے کے قابل

نہ چھوڑیں گے محبوب الٰہی کے در کو

نہیں گو ہم اس آستانے کے قابل

ہمیں قید کرنے سے کیا نفع صیاد

نہ تھے دام میں ہم تو لانے کے قابل

نہ بال منقش نہ پرہائے رنگیں

نہ آواز خوش کے سنانے کے قابل

ہوئے ہیں وہ ناقابلوں میں شمار اب

جنہیں مانتے تھے زمانے کے قابل

وہ آزردہؔ جو خوش بیاں تھے نہیں اب

اشارے سے بھی کچھ بتانے کے قابل